جرمن پناہ گزین کے طریقہ کار میں 7 حالیہ تبدیلیاں

جرمن پولیس پناہ گزینوں کو واپس ہوائی اڈے لے جارہی ہے © ڈی پی

جرمنی نے حال ہی میں غیر قانونی تارکین وطن پر اپنے قوانین کو سخت کر دیا ہے۔ پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں پناہ گزینوں نے اپنی شناخت اور صحت کی حیثیت کے بارے میں غلط بیانات دیے جسکی وجہ سے قانونی اصلاحات کی ضرورت پیش آئ ۔ نئے متعارف کیے گئے قانون برائے پناہ گزین کے عمل کو تیز کرے گا۔  یہ عام طور پر مسترد پناہ گزینوں کی زبردست واپسی کو ہر طرح ممکن بناتی ہے اور خاص طور پر جنہوں نے جھوٹے بیانات دیے ہوں یا عوامی سلامتی کے لئے خطرہ بنے ہوں۔

یہ سات اہم تبدیلیاں یہاں درج  ہیں:

1.  پناہ کے عمل کو نمایاں طور پر تیز کیا گیا ہے۔ درخواستوں پر زیادہ تر دو مہینے سے بھی کم مدت میں  فیصلہ سنادیا جاتا ہے۔ نتیجہ: پناہ گزین، جو تحفظ حاصل  نہیں کر پاتے ہیں کو تھوڑے عرصے کے بعد جرمنی چھوڑنا پڑتا ہے۔

2.  18 مئ 2017 سے، حکام مسترد پناہ گزینوں کو زیادہ آسانی سے  طاقت کے ذریعے ہٹا سکتے ہیں، خاص طور پر اگر وہ اپنے پناہ کے بیان میں غلط بیانی کرتے ہیں۔

3.  جعلی شناخت کے استعمال سے پناہ گزینوں کو روکنے کے لئے، جرمنی نے ایک  نئے شناختی انتظام کے نظام کو متعارف کرایا ہے جس میں انگلیوں کے  نشانات بھی شامل ہیں۔ حکام نے جعلی دستاویزات کا پتہ لگانے کے لئے اپنی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے۔ اس کے علاوہ، پناہ گزینوں کے لئے جرمن حکام کے جاری کردہ دستاویزات  کی نقل اب  آسانی سے نہیں بنائ جاسکتی۔

4.  اس کے علاوہ  پناہ گزینوں کے وفاقی دفتر(بی اے ایم ایف) اب پناہ گزینوں کے موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات کی تحقیقات کا حق بھی رکھتا ہے، بشمول پناہ گزینوں کی شناخت کی تصدیق کرنے کے لئے اضافی اقدامات لے رہا ہے۔ اس کے علاوہ  بی ایم ایف پناہ گزینوں کے ذاتی ڈیٹا پولیس کو منتقل کر سکتا ہے۔

5.  پناہ گزینوں کو جنکا تحفظ حاصل کرنے کا امکان نہیں ہوگا، اب انھیں اپنے ابتدائی استقبالیہ مرکز میں ہی پناہ گزین کے  مکمل عمل  تک رہنا لازمی ہوگا۔ ان کی درخواست کے خارج ہونے کے بعد، انھیں وہاں سے ضاکارانہ طور پر یا  پھرپولیس کے ذریعہ انکے اصل ملک میں واپس بھیجا جاتا ہے۔

6.  پناہ گزین جو عوام کی حفاظت کے لئے خطرہ ہوں گے انھیں جی پی ایس کے کڑے پہننا لازمی  کیا جائے گا۔ یہ  ایسے افراد پر لاگو ہوتا ہے جو دوسروں کو یا اندرونی سلامتی کے لئےخطرہ ہوں، لیکن اس وقت انھیں زبردستی اپنے وطن واپس نہیں کیا جاسکتا ہو۔

7.  آخری تبدیلی یہ ہے کہ ، وہ  پناہ گزین  جن کی درخواست مسترد کردی جائے گیاب انکے سماجی فوائد بھی کم کردیے جائیں گے۔ مئی 2017 میں، ایک عدالت نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک مسترد پناہ گزین شخص جو شناخت کے ثبوت کو ظاہر کرنے میں ناکام رہا ہے، اسے صرف ایک چھوٹی سماجی فوائد ہی دیے جا ئیں گے  اور  کوئ کبھی نقد رقم نہیں ملے گی۔

یہ سات اقدامات جرمنی میں پناہ گزین کے طریقہ کار کے جاری اصلاحات کا حصہ ہیں۔  اس کا مقصد یہ ہے کہ فوری طور پر حتمی فیصلے کیا جائے کہ کون جرمنی میں تحفظ کا حقدار ہے کون نہیں ۔ اور اس بات کا یقین کیا جائے کہ تحفظ کے جو اہل نہیں ہیں رضاکارانہ طور پر اپنے ملک واپس  جائیں بصورت دیکر پولیس کے ذریعہ ان کے اپنے ملک واپس بھیجا جائے۔

آخری بار اپڈیٹ کیا گیا: 2018-03-20 شائع کیا گیا: 2017-07-27