عراق میں پھر سے استحکام آرہا ہے

©dpa ایک بارودی سرنگ صاف کرنے والا „ایک دن کے بعد” اپنے کام پر

بارودی سرنگ صاف کرنا  انکواجازت دیتا ہے جو چھوڑ گئے، گھر آنے کے لئے

داعش ( آئی ایس) کی طرف سے چھوڑی ہوئ  دھماکہ خیز آلات( آئ ای ڈی ایس) کہیں کہیں بہت ہی مشکل جگہوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ رہائشیوں کو  ان جگہوں پر واپس آنے کے قابل بنانے کے لئے، ایک صفائ کے مشن کے طور پر جرمنی مدد کررہا ہے  اس مہلک بارودی سرنگوں کو ختم کرنے میں ۔

بارودی سرنگوں کو ختم کرنے سے پہلے، مقامی صورتحال بہت ڈرامائی واقع سے بھری ہوئ ہے: جب ایک خاندان اپنے گھر لوٹتا ہے تو روزمرہ کی عادت دھراتا ہے جیسے ایک ڈرواز کا کھولنا یا ایک کھلرنے کو اٹھانا  اور ایسے میں اچانک ایک زوردار دھماکہ کا ہونا ، اور ایسی کہانیاں پورے ملک میں سنی بھی جارہی ہو تب حالات ڈرامائ ہوہی جاتے ہیں۔ پانی کے کنستر، پرانے بیرل، الٹے برتن، راستے میں گاڑی سے گرے سلینسر، سب چیزرں کو اس کے ممکنہ خطرے کے بارے میں شک اور شعور کے ساتھ دیکھا جانا چاہئے۔ .

یہاں حکمت عملی یہ ہے کہ لوگوں کی واپسی کو مشکل بنایا جائے۔۔۔۔۔۔۔

مغربی عراق کے شہرفالوجا اور رمادی جہاں سے جہاں گزشتہ برس پچھلےداعش ، آئی ایس کو بھگایا گیا تھا ، کو صاف کرتے ہوئے اتنی بارودی سرنگیں پھٹی ہیں جو اس سے پہلے کبھی بھی نہیں پھٹی تھیں۔  100سے زائد شہری ہلاک ہوئے، پھر بھی علاقے کو صاف کرنے کے لئے  غیر معمولی ماہرین کام کرتے رہے۔

موصول میں لوگوں کے آنے کے بعد کا دن

©dpa عراقی فوجی موصول میں

شمالی عراقی شہر موصل کے مختلف حصوں میں ماہرینوں نے اسی طرح کے کئ مناظر دیکھیں ہیں۔ شہر کے مغربی حصے کوداعش نے آخری وقت تک اپنے قبضے میں رکھا۔ لیکن جون 2017 میں، عراقی فوج اور اس کے اتحادیوں نے مغرب موصل کو بھی خالی کروالیا۔ مستقبل میں، جو لوگ یہاں رہ رہے تھے وہاں واپس لوٹنے کے قابل ہو جائیں گے، شرط یہ ہے کہ پہلے بارودی سرنگوں کی صفائ صحیح طریقے سے ہوجائے۔

چونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ہیں جو یہ کام کرتے ہیں اس لیے جرمن  منسٹری آف فارن آفس ، دوسرے ڈونر ریاستوں اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کران کمپنیوں کی مدد کرتا ہے جو انتہائی ناممکن حالتوں میں بھی ان  خطرناک دھماکہ خیز آلات(آئ ای ڈی ایس) کی صفائ کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مقامی لوگوں کو اس چیز کی ثرئیننگ بھی دیتے ہیں۔

جس صفائ سے بارودی سرنگیں بچھائ جاتی ہیں اسی صفائ سے اسےہٹانا بھی ضروری ہوتا ہے

©dpa بارودی سرنگوں کی صفائ ایک بہت اہم کام ہے لوگوں کو واپس اپنے کھر لوٹانے کے لیے

جانوس گلوبل آپریشنز ٹیم، امریکہ کی کمپنی کے سربراہ، جو پہلے سے ہی رمادی اور فالوجہ میں کام کر چکے ہیں اور آج کل موصول میں مصروف ہیں، کا کہنا ہے کہ” ماہرین جو بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں تجربہ رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں کام کرتے ہیں وہ ہماری ٹیم کا حصہ ہیں ۔  اور ان میں سے ہر ایک کی رپورٹ یہ ہے کہ عراق کی صورت حال ممکنہ طور پر سب سے زیادہ پیچیدہ ہے جو انہوں نے ابھی تک دیکھی ہے۔” یہاں کام کرکے یہ تاثر ملا ہے کہ داعش کے ہرایک لڑاکا بردار فوجی نے نہ صرف بارود بم نصب کیا ہے بلکہ صرف اوپر سے آئے احکامات کی پیروی کی ہے ۔  جانوس میں اسٹریٹجک ترقی کے نائب صدر ڈیوڈ جانسن نے رپورٹ دی کہ”  ایسا لگتا ہے کہ داعش کے پاس تیار کردہ  آي ای ڈی ایس بہت مقدار میں تھے، اور انکو بس نصب کرنے کی ضرورت تھی۔ بارودی سرنگوں کا بیچھانا صرف سیاسی  نہیں تھا  بلکہ عسکریت پسندی بھی تھا۔: ”  یہاں کی حکمت عملی بتارہی ہے کہ عوام کی واپسی کو زیادہ سے زیادہ مشکل بنایا جائے اور حالات کو خراب کیا جائے۔  اسلامی ریاست داعش  شکست کھانے کے باوجود صورتحال کو مسترد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

آخری بار اپڈیٹ کیا گیا: 2018-03-20 شائع کیا گیا: 2017-07-27