کیا گیمبیا نے جرمنی کے ساتھ ملک بدر کیے جانے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں؟

جرمنی کےصدر فرینک والٹر اسٹائین مایر، گیمبیا کے صدر ایداما بورو کے ساتھ © ڈی پی اے

میڈیا کی رپورٹ ہے کہ جرمن صدر فرینک والٹر اسٹائین مایر نے گیمبیا کے صدر ایداما بورو کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جن میں 1500 گمبیا کے شہری کی جرمنی سے وطن واپسی کی بات طے کی گئ ہے، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔  جرمن وزارت خارجہ اور صدر کے آفس دونوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، گیمبیا کے وزیر اطلاعات ڈیمبا  جاو نے بھی واضح کیا ہے کہ گیمبیا نے گمبیا کے شہری کی  واپسی کے کسی بھی  معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

جرمن صدر فرینک والٹر اسٹائین مایر گمبیا  کے انتخابات کے بعد گمبیا کا دورہ کرنے والے یورپ کے پہلے سربراہ بن گئے ہیں۔ دسمبرکی 13 اور 14  تاریخ کی ملاقات میں فرینک والٹر اسٹائین مایر نے جرمنی کو جمہوری تبدیلی کی شناخت بتایا اور استحکام کے لئے سیاسی مدد کی پیشکش کا اظہار کیا ۔   لیکن جرمن صدر نے ایداما  بارو کے ساتھ  وطن واپسی یا ملک بدر کیے جانےکے کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔

اس معاہدے پر دستخط کے بارے میں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں جو خبر  نشر کی جارہی ہے وہ غلط ہے۔ اس کے بجائے، دونوں صدر نے اقتصادی تعمیر نو اور سیاسی مفاہمت کے بارے میں بات چیت کی ۔

 ڈی پی اے© وفاقی صدر فرینک والٹر اسٹائین مایر اور امادو باسنگ جوبارتھ۔۔۔ بنجول میں موسیقی کے اسکول میں 

بڑے پیمانے پر  وطن واپس نہیں بھیجا جارہا ہے

ایجنڈے میں پناہ گزینوں اور وطن واپسی کا موضوع بھی شامل تھا۔ ملک کے سب سے بڑے تعلیمی مرکز گمبیا ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے دورے پر صدر نے ان پناہ گزینوں کے ساتھ ملاقات کی جو حال ہی میں اپنے وطن واپس لوٹے ہیں۔

واپس لوٹنے والوں نے، سننے والوں کو ان بڑے خطرات کے بارے میں بتایا جو انھوں نے یورپ کے راستے میں دیکھے ۔  اوراپنے ہی وطن میں بہتر تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی امید ظاہر کی۔  صدر بورو نے یورپ میں اپنے تجربات کے بارے بات چیت کی اور نوجوانوں کو گمبیا میں رہنے اور ملک کی تعمیر نو کے عمل میں مشغول ہونے کی حوصلہ افزائی کی۔

بڑے پیمانے پر جرمنی سے گمبیا واپسی کے بارے میں نہ ہی کوئ بحث کی گئی اور نہ ہی کسی بات پراتفاق کیا گیا۔ 2017ء میں جرمنی نے کچھ پناہ گزین ، جن کے پناہ کے کیس خارج ہوگئے تھے، کو گمبیا واپس بھیجا تھا، یہ سب جرمنی کے صوبے بادن۔ ورٹنبرگ میں تھے۔  یہ وہی جگہ ہے جہاں پہلی بار جرمنی میں مبینہ طور پر وطن واپسی کے معاہدے کے خلاف مظاہرین نے احتجاج کیا تھا۔  اگرچہ حقائق کو دیکھا جا ئے تو، یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی تھی۔ دو ریاستوں کے درمیان کوئی بھی واپس بھیجے جانے کے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے گیے ہیں۔  جرمنی میں گیمبیا  کے لیے بھی وہی طریقہ کار ہے جودوسرے ملکوں  کے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے لیے ہوتا ہے۔ جرمنی ان تارکین وطن کی مدد کرتا ہے جن کے ساتھ زیادتی ہوئ ہو یا ہونے کاخدشہ ہو یا جنھیں سنگین نقصان پہنچ سکتا ہو، اور اس طرح انھیں رہنے کا حق    دیا جاتاہے، لیکن جن پناہ گزینوں کو مسترد کردیا جاتا ہے ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئ چارہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اصل ملک واپس جائیں۔