آباد کاری پروگرام کے تحت کیا جگہ خریدنا ممکن ہے؟

©dpa

نہیں۔ بازآبادکاری پروگرام کےسیاق و سباق کے اندر، جرمنی اور دیگر یوروپی ممالک مستقل طور پر پناہ گزین کے طور پر لیتے ہیں، خاص طور پر رہائش ملک سے براہ راست حفاظت کی ضرورت کے تحت۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ لوگ بذات خود پروگرام میں شامل ہونےکیلئے درخواست دیں۔ مہاجرین کا انتخاب اس کے مخصوص حفاظتی زمرہ کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کے دفتر کے ذریعہ پہلے ملک میں پہلے تسلیم کرنے پر منتخب کیا جاتا ہے۔ باز آبادکاری پروگرام میں تسلیم کرنے کیلئے محدود زمرہ میں حفاظت کی ضرورت سب سے اہم عنصر ہے۔ حتمی فیصلہ متعلقہ ملک کی قبولیت پر منحصر ہوتی ہے۔

ی 2018 اور 2019 کیلئے کل 10,200 لوگوں کو اپنے یہاں رکھنے پر راضی ہوا ہے۔
باز آباد کاری پروگرام کیلئے قبول کرنے کا زمرہ بہت محدود ہے۔

©dpa

تحفظ کی ضرورت فیصلہ لینے کا سب سے اہم عنصر ہے

وہ لوگ جنہیں یواین ایچ آر سی نے ان کے رہائشی ملک میں مہاجرین تسلیم کیا ہے اور ایسے زمرے میں رکھا ہے جنہیں خاص طور پر تحفظ کی دینے کی ضرورت ہے، ویسے ہی لوگوں کے بازآبادی کا امکان ہے۔ یہ عام طور پر ایسے معاملہ میں ہوتا ہے جب لوٹنے کا امکان نہیات ہی کم ہو اور اس بات کا بھی کوئی نہ ہو کہ وہ داخل ہونے والے ملک میں عام زندگی گزار پائے گا۔ خصوصی توجہ عمردراز، بیمار لوگوں اور ہراساں اور تشدد کے شکار بچوں کو دی جاتی ہے۔

یواین ایچ آر سی باز آباد کاری پروگرام کیلئے بنیادی اصول کی تشخیص کرتی ہے

@dpa

کئی مراحل والے طریقہ کار

آیا مہاجرین جرمنی کے بازآباد کاری پروگرام کا حصہ بن سکتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ مختلف مراحل میں لیا جاتا ہے۔ اس کی ابتداء یواین ایچ آر سی کے ذریعہ ایسے لوگوں کے انتخاب سے ہوتا ہے جواصولی طور پر اہل ہو۔ اگلے مرحلہ میں مائگریشن اور مہاجرین کا وفاقی دفتر انٹرویو کرتا ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کن امیدواروں کو اصل میں قبول کیا جائے گا۔ اس عمل میں اس بات کا پورا خیال رکھا جاتا ہے کہ فیملیز کو علاحدہ نہ کیا جائے۔

جرمنی میں تسلیم شدہ مہاجرین کو کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، جو سماجی سیکیورٹی ادائیگیوں کا حق دار ہوتا ہے اور انٹیگریشن کورس میں شرکت کرسکتا ہے۔ جرمنی آنے سے قبل وہ لوگ سہ روزہ تیاری کورس میں شرکت کرتے ہیں جس میں تعلیم، ہاوسنگ اور جرمنی میں روزگار پانے جیسے عنوانات کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

جرمنی ان کی آمد پر بازآبادکاری والے مہاجرین پہلے دو ہفتے شمال جرمنی میں واقع فارئڈلینڈ مہاجر ٹرانزٹ کیمپ میں گزارتے ہیں۔ اس دوران انہیں تعارفی کورس کرایا جاتا ہے جس میں انہیں جرمنی کے کلچروثقافت اور زبان اور یہاں کی زندگی کے بارے میں معلومات فراہم کرائی جاتی ہے۔اس کےعلاوہ مائگریشن سپورٹ سروسز کے جزو کے طور پر انفرادی سیشن دستیاب کرایا جاتا ہے، جہاں انفرادی اور مشقی سوالات کے جوابات رازداری سیٹنگ میں دئے جاسکتے ہیں، مثال کے طور پر طبی نگہداشت، ہاوسنگ یا رہائش کی نئی جگہ میں سرخ ٹیپ کے ساتھ ڈیل کرنا۔ پہلی دفعہ فرائڈلینڈ میں رکھنے کے بعد مہاجرین کو مختللف لینڈر کے پاس بلدیات کے درمیان میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔