جرمنی اردن، لبنان اور ترکی میں پناہ گزینوں کی مدد کرتا ہے

dpa @ نبر البرد کے فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں ایک نیا اسکول

زندگی صرف کھانے اور رہنے کا نام نہیں ہے۔ یہ فخر، وقار، آرٹ، ثقافت اور زبان بھی ہے۔

اسی وجہ سے جرمن گوئیٹے انسٹی ٹیوٹ اردن، لبنان اور مشرقی ترکی کے ساتھ ساتھ استنبول میں پناہ گزین کیمپوں میں ثقافتی اور تعلیمی منصوبوں کی پیشکش کرتا ہے۔

ترکی میں پناہ گزین کیمپ

dpa© ترکی میں نصیب پناہ گزین کیمپ میں اسکول

ترکی تین ملین شام کے پناہ گزینوں کی میزبانی کررہا ہے۔ حال ہی میں جرمن گورنمنٹ کے ردعمل کے طور پر، مقامی گوئٹے انسٹی ٹیوٹ نے اس صورت حال کو جانچا اور پناہ گزین کیمپوں میں بچوں اور نوجوانوں کی مدد کی۔ اس کے لئے، انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے تھیٹر کے منظم منصوبوں کا اہتمام کیا گيا اس امید پرکہ یہ انہیں طاقت دے سکتی ہے۔ ان منصوبوں کے تحت جو کچھ وہاں پیش کیا گيا اس میں شامل تھا سٹال چلنے والی ورکشاپ یا نشانیاں ڈھونڈنا: ایک ڈانس ورکشاپ۔ اسکے علاوہ ہپ ۔ہوپ سمینارجس میں جرمن ترکی فنکاروں نے حصہ لیا۔ موسیقی تھراپی اور صدمہ متاثرین کی تعلیم کیمپ میں موجود اساتذہ کے لیے، جسے برلن میں تشدد کے متاثرین کے انسداد انسٹی ٹیوٹ کے ایک لیکچرر نے دیا جو کردش اور عربی بولتے ہیں۔ جرمن گوئیٹے انسٹی ٹیوٹ تمام تنظیموں کے صدمے کے ماہرین سے رجوع کرتا ہے اور تنظیموں کے ساتھ تعاون کرتا ہے جو موقع پر امداد بہم پہنچاتے ہیں۔

استنبول

اس کے علاوہ استنبول میں جرمن گوئیٹے انسٹی ٹیوٹ نے پناہ گزین فلم سازوں اور فنکاروں کے لیے جنھیں جرمنی کے لئے رہائشی اجازت نامہ مل گیا تھا ، فلم کے منصوبے اور ورکشاپ کے علاوہ زبان کے کورسز کی بھی پیشکش کی۔ مثال کے طور پر، ایک آرٹ پروجیکٹ داستان ادبی اور آڈیو بصری عناصر کے ساتھ "اپنی کہانیاں بتائیں” پیش کیا گیا۔ کہانیوں کی تکنیک، فوٹو گرافی اور انٹرویو میں شام کے نوجوان پناہ گزینوں نے اپنے پہلے وقت کی، اس وقت کی اور شام سے فرار ہونے کے بعد کی کہانیوں کو بیان کیا۔ یہ کہانیاں اکثر زندگی کی حقیقت کے بارے میں بیان کرتی ہیں، نازک معمولات اور ظلم کی پابندیوں کے درمیان فرق۔ کہانیاں اور اسکے نتائج جرمن گوئیٹے انسٹی ٹیوٹ ترکی کی ویب سائٹپر مستقل طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

اردن اور لبنان

©dpa اردن میں زاتاری پناہ گزین کیمپ میں شام کے مہاجر بچے

83000 کی آبادی کے ساتھ اردن کا زاتاری کیمپ دنیا میں دوسرا بڑا پناہ گزینوں کا کیمپ ہے۔ 2013ء کے بعد سے، گوئیٹے انسٹی ٹیوٹ یہاں پناہ گزینوں کی مدد کررہا ہے، مثلا پڑھنے کی مشقیں یا بچوں کے لئے زبان کے سبق جیسے منصوبوں کی پیشکش کی جارہی ہے۔ گوئیٹے انسٹی ٹیوٹ نے پڑوسی ملک شام کے پناہ گزینوں کے لئے زبان کی تربیت کی پیشکش کی ہے، ان خاص کوٹا پناہ گزینوں کے لئے یا پھر اپنےخاندان کے افراد کو بلانے کے مجاز لوگوں کے لیے، یعنی ان کے لیے جنکا مستقبل جرمنی میں محفوظ ہے۔

ایک ثقافتی پیداوار فنڈ کا مقصد شام کے فنکاروں کو کیمپ میں فعال بننے کے لئے حوصلہ افزائی کرنا ہے کیونکہ لوگ صرف چند سالوں کے لئے کیمپوں میں نہیں رہتے بلکہ شاید دہائیوں تک۔ استنبول میں گوئیٹے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کراسٹیان لوفے کہتے ہیں کہ ” آرٹ  بہت اہمیت رکھتا ہے جسکا اندازہ بہت کم لگایا جاسکا ہے۔” یہ لوگوں کو کچھ نیا سوچنے دیتا ہے، جس کے لیے تخلیقی سوچ بچار کی ضرورت ہوتی ہے۔

موسیقی، پینٹنگ یا رقص ہر روز کے سوچ کے محور کو توڑنے اور صدمے کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

اس طرح، یہ تخلیقی صلاحیتوں کو اور نئے نقطہ نظر کو فروغ دینے میں مدد کرسکتا ہے۔ موسیقی، پینٹنگ یا رقص ہر روز کے سوچ کے محور کو توڑنے اور صدمے کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ یہاں کے قیام کو مزید مستحکام بنایا جائے۔ .